Shams-ul-Arifeen sufismShams ul Arifeen (The enlightening sun for the Knowers of Allah)is a collection of important topics selected from eight of Sultan Bahoos books It contains the essence of eight of his books, rather is a summary of all his books.
The writer
✅ 875 صفحات پر مشتمل جامع کتاب
الرسالة الغوثیہ سيدنا غوث الاعظم غوث حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی وہ تصنیف مبارکہ ہے جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی باطنی معراج کے دوران اللہ تعالیٰ سے ہونے والی گفتگو اور سوال و جواب کو تحریر فرمایا۔ الرسالة الغوثیہ اللہ اور اس کے محبوب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے درمیان ایسی راز دارانہ گفتگو ہے جو عرفانِ الہی کے طالبوں کے لیے نہایت لطیف اسرار سے پردے اٹھاتی ہے۔ ظاہری نظر سے پڑھنے والوں کے لیے یہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہے لیکن راہِ فقر پر اخلاص اور ذوق وشوق سے چلنے والوں کے لیے یہ فقر کا تمام نصاب اور اسرار الہی کا سمندر ہے ۔ اس سمندر میں اترنے والوں میں سے ہر ایک کے لیے اس میں بے شمار فیض کے موتی پنہاں ہیں عشق حقیقی کے رموز اور طور طریق ، دیدار الہی کی منزل تک پہنچنے والے راستہ کے تمام نشیب و فراز کی تفصیل ، منازل عرفان کو طے کرنے کے تمام اصول و ضوابط اور وصالِ الٰہی فنافی اللہ بقا باللہ کے تمام لوازمات اس مختصر رسالے میں یوں بیان کر دیئے گئے ہیں گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ الرسالة الغوثیہ کی شرح طالبانِ مولیٰ کے لیے راہِ فقر کے اسرار و رموز سمجھنے میں بے حد معاون ثابت ہوگی ۔ انشاء اللہ
reading it is incumbent upon the seekers of Allah because it confers presence in the Mohammadan Assembly
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ کلام اقبال کے الہامی اور آفاقی ہونے کے سبب ہی اس میں ایسی معجزانہ وسعت پائی جاتی ہے کہ مفسرین اس میں سے ہر شعبہ زندگی کے متعلق پہلو تلاش کر لیتے ہیں اور اس کا اطلاق مذہب و سیاست، ثقافت و تجارت، روحانیت و معاشرت سب پر یکساں کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ الہامی ہونے کے باعث بلاشبہ اس کا اصل پہلو روحانیت اور فقر ہے۔ اقبال کے کلام کا گہری نظر سے مطالعہ یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ ایک مسلمان کو مومن اور طالب مولی کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے فقر کی راہ اپنا کر دیدارِ الٰہی کی منزل تک پہنچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ افسوس آج تک اقبال کے تمام تر مفسرین اور قارئین نے کلام اقبال سے صرف ظاہری معنی ہی اخذ کیے اور اس کے اصل باطنی و روحانی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس میں قصور ان کا بھی نہیں کیونکہ اقبال کے قلب با صفا پر نازل ہونے والے کلام کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے قلب با صفا کی ہی ضرورت ہے جس سے موجودہ دور کے بیشتر مسلمان محروم ہیں۔ اقبالیات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرشد کامل اکمل جامع نور الھدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے کلام اقبال کے اصل معنوی و روحانی پہلو کو اجا گر کیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے نہایت عرق ریزی سے اقبال کے اردو اور فارسی کلام کو مختلف موضوعات کے تحت اکٹھا کیا اور اس کے معنی و شرح کے ذریعے اقبال کے کلام کی اصل روح کو قارئین تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ زیر نظر کتاب نہ صرف اقبال کے شائقین کے لیے ایک نادر و نایاب تحفہ ہے جو انہیں کلام اقبال کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ طالبان مولی اور راہ فقر کے سالکین کے لیے بھی ہر مقام و منزل پر رہنما ثابت ہوگی
🔥 Qurb-e-Deedar (The Nearness of Divine Vision)A luminous guide toward Divine Vision and Oneness
جامع الاسر از حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نہایت اہم اور نادر تصنیف ہے جو طالبان مولی کے لیے اسرار باطنی اور معرفت الہی کا ایک عظیم خزانہ ہے۔
محکم الفقرا
’’جو اس کتاب کو اپنے دائمی مطالعہ میں رکھے، انتہا درجہ کے شوق اور قلب کی بے انتہا پاکیزگی سے اس کتاب کو پڑھے تو بیشک وہ مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری پا لے گا اور توحید میں مستغرق ہو کر جملہ واصلین ِحق میں شامل ہو جائے گا۔ ــ‘‘
توحید ارکانِ اسلام میں سے اولین اور اہم ترین رکن ہے۔ توحید کے زبانی اقرار اور تصدیق بالقلب کے بغیر کوئی بھی شخص حقیقی مسلمان و مومن نہیں ہو سکتا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے کلید التوحید (خورد) میں توحید کے اسرار کو بہت ہی جامع انداز میں بیان کیا ہے ۔
Hazrat Sakhi Sultan Bahoo (RA) (1630–1691) is one of the greatest Sufi Saints of the Subcontinent
The policies and rules they implemented in their respective eras were the true reflection of the teachings of the Holy Prophet